
قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن کاٹنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
عید قربان کے حوالے سے لوگوں کے ذہن میں بہت سارے سوالات ہوتے ہیں۔ آج اس آرٹیکل میں قربانی کرنے والے شخص کے لیئے بال اور ناخن کاٹنے کے بارے میں کیا حکم ہے وہ بتایا جاۓ گا۔
یہ عشرہ حج کا عشرہ ہے ان ایام کے اندر جو خاص عمل ہے وہ حج کا عمل ہے اور ظاہری بات ہے حج کا جو عمل ہے وہ مکہ مکرمہ میں ہی جا کر ہو سکتا ہے۔ اس شخص پر زندگی میں ایک بارحج فرض ہے جس کے پاس مال و دولت ہو۔ لیکن بہت سارے لوگ ہیں جو نہیں جا سکتے تو ان کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہے کہ وہ بھی ان کے اس عمل میں برابر کے شریک ہو جائیں۔
وہ کیسے؟ کہ جیسے حاجی حج پہ جا کے جو جو اعمال کرتے ہیں تو باقی پوری دنیا میں رہنے والے جو جو مسلمان ہیں وہ بھی انہی کی طرح اعمال کریں تا کہ اس کی جو برکات و فضیلات ہیں وہ ان تک پہنچ جائیں۔
اسی طرح حاجی مکہ مکرمہ میں رہ کر قربانی کرتے ہیں تو باقی مسلمانوں پر بھی فرض ہے کہ وہ بھی ایسے ہی اپنی اپنی جگہوں پر رہتے ہوۓ قربانی کریں۔ اسی طرح بال اور ناخن کاٹنے کا مسئلہ بھی یہی ہے۔ اس حوالے سے ایک حدیث ہے جو کہ حضرت امہ سلمہؐ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کہ جب ذالحج کا پہلا عشرہ شروع ہو جاۓ اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کا ہو تو اس کو چاہیئے کہ اب قربانی تک وہ نا بال کاٹے نا ناخن کاٹے”۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی سے پہلے بال اور باخن کاٹنا جائز نہیں۔
IMPORTANT LINKS
اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں.آن لائن قرآن اکیڈمی. ہمارے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں. ہمارے بارے میں





One Comment