
﷽
بہت سارے لوگوں کے مختلف سوالات آ رہے ہیں قربانی کے حوالے سے کے کون سی ایسی نشانیاں ہیں جو قربانی کے جانوروں میں نہیں ہونی چاہیئے۔ اس آرٹیکل میں ہم احادیث سے دیکھیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے کن جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا۔ آپ کے سامنے دو احادیث رکھتا ہوں جس کے آپ کو یہ پتہ چل جاۓ کے کون کون سے جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔ ان دونوں احادیث کے اندر ان کی پوری تفصیل موجود ہے۔
پہلی حدیث جو ہے وہ حضرت براء بن عاذبؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ قربانی میں کیسے جانوروں سے پرہیز کیا جاۓ یعنی کن جانوروں کی قربانی سے بچا جاۓ۔ آپﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔
Kin Janwaron Ki Qurbani Jaiz Nahi | کن جانوروں کی قربانی کرنا جائز نہیں؟ |Mufti Bilal Ahmed Qadri
1۔ ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو رہا ہو یعنی اس کو چلنے میں دکت ہو اور اس کے چلنے سے پتہ چل رہا ہو کہ یہ لنگڑا ہے۔
2۔ جس جانور کی ایک آنکھ خراب ہو یا ہو گئ ہو اور اس کی آنکھ کی خرابی بلکل نمایاں ہو رہی ہو۔
3۔ وہ جانور جو بہت بیمار ہو یعنی بیماری کی وجہ سے لاگر ہو گیا ہے۔ جانور کو دیکھ کر بھی ہمیں انداذہ ہو جاتا ہے کہ یہ جانور بہت بیمار ہے۔
4۔ ایسا جانور جو لاگر ہو اور اتنا کمزور ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودہ تک نہ رہا ہو یعنی ہڈیاں سامنے نظر آرہی ہوں کہ ان میں گودہ نہیں ہے۔
ایسے چار جانوروں کی قربانی سے بچا جاۓ۔ مکرو ہے ایسے جانوروں کی قربانی جن میں یہ چیزیں پائی جاتی ہوں۔
دوسری حدیث جو کہ حضرت علیؓ سے روایت ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا ہے کہ جس کا ” سینگ ٹوٹا ہو یا کان کٹا ہو” تو اس جانور کی بھی قربانی جائز نہیں ہے۔
یہ 6 چیزیں ہیں۔ آپ جب بھی جائیں قربانی کا جانور لینے تو جس جانور میں ان 6 میں سے کوئی بھی نشانی پائی جائے تو وہ جانور نہیں لیں۔ تان کے ہماری قربانی اللہ کے ہاں قبول ہو۔
IMPORTANT LINKS
اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں.آن لائن قرآن اکیڈمی. ہمارے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں. ہمارے بارے میں





2 Comments