رمضان کے وظائفوظائف

Ramadan Mubarak kay adab ( Part 4 )-Mufti Bilal Qadri

رمضان المبارک کے آداب ( پارٹ 4 ) صلہ رحمی میں جلدی کریں۔ شب بیداری کی عادت رمضان عبادت کا مہینہ ہے شاپنگ کا نہیں۔

in article

﷽ السلام و علیکم ورحمت اللہ:

رمضان المبارک کے آداب کے سلسلے میں ہمارے آرٹیکلز ضرور پڑھا کریں اس سے پہلے تین پارٹ آپ کے سامنے آگئے جس کے اندر تقریباً ہم نے 9  چیزیں ذکر کر دی ہیں کہ رمضان میں یا رمضان المبارک سے پہلے یہ عمل کر لیں تو آج اس سے آگے شروع کرتے ہیں اور آج کے آرٹیکل کے اندر آگے تین اور پوائنٹ ذکر کرنے ہیں دس / گیارہ اور بارہ نمبر دس پوائنٹ اس سے پہلے نو پوائنٹ پچھلے تین آرٹیکلز کے اندر بتا دیئے ہیں۔ اگر آپ میں سے کوئی نئے ہیں تو ان سے گزارش ہے کہ اس سے پہلے جو تین آرٹیکلز ہیں پارٹ 1 / پارٹ 2 / پارٹ 3 دیکھیں تاکہ آپ کو آگلے مسائل دیکھنے میں آسانی ہو تو آج جو نمبر دس ہے وہ کیا ہے صلہ رحمی میں جلدی کریں قطع رحمی یعنی رشتے ناتے تولنا ایک بہت بڑا گناہ ہے اور قطع رحمی کی سب سے بڑی جو سزا ہے وہ کیا ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی لہذا رمضان آنے سے پہلے اس سنگین گناہ سے توبہ کریں اور رشتے داروں سے صلہ رحمی کریں کیونکہ ایک روایت میں حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے دیکھیں دو چیزیں ہوتی ہیں ہمارے آج کل ایک عجیب ٹرینڈ چل پڑا ہے جیسے اگر کسی کو آپ مثال دے رہے ہوں کسی کو اگر کوئی شادی میں نہ بلائے تو وہ کہتے ہیں اس نے نہیں بلایا تو میں کیوں بلاؤں دعوت ہے اس نے نہیں بلایا تو میں کیوں بلاؤں ، اس نے مجھے سلام نہیں کیا تو میں اس کو سلام کیوں کروں ، اس نے فلاں مجھے نہیں کیا تو میں اس کو کیوں کروں یہ چیز ہمارے اندر بہت زیادہ آگئی ہے تو یہ اصل صلہ رحمی نہیں ہے کہ وہ آکے ہمیں جُھک کر سلام کرے تو ہم بھی اس کو سلام کرین اگر ہم اس کے گھر جا رہے ہیں وہ بڑا اچھا کھانا کھیلا رہا ہے / پِلا رہا ہے وہ ہمارے گھر آ رہا ہے ہم بھی اس کو اچھا کھلائیں / پلائیں یہ تو ایک نارمل روٹین ہے بلکہ اصل صلح رحمی کرنے والا کون ہے وہ شخص ہے کہ جو آپ سے قطع تعلقی کرے آپ اس کے ساتھ صلح رحمی کریں مثلاً اس نے شادی پہ نہیں بلایا لیکن آپ اس کو بلا رہے ہیں اگر اس نے نہیں بلایا تو میں کیوں اس کو بلاؤں گا۔ آپ اس کے گھر گئے ہیں وہ آپ کو نہیں ملا لیکن جب وہ آپ کے گھر آئے آپ اس کو اچھے طریقے سے ملیں یہ اصل صلح رحمی ہے آپ کو اس نے دعوت پہ نہیں بلایا لیکن آپ دعوت کریں آپ اس کو ضرور بلائیں یہ اصل صلح رحمی ہے کہ جو آپ سے توڑے آپ اس سے جوڑو تو اس لئے بجائے اس کے کہ ہم اس چیز کو انا بنائیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی تو آج ہی اس سے توبہ کریں اور جو یہ سنگین گناہ ہے اس سے توبہ کریں تاکہ رمضان آنے سے پہلے ہم اس چیز سے اللہ سے توبہ کریں اور رمضان کے اندر ہم جتنی دعائیں کریں اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول کریں۔

ابھی اس لنک پر کلک کریں اور اپنی اپائینٹیمینٹ بک کروائیں۔

BOOK APPOINTMENT

اس کے بعد نمبر گیارہ شب بیداری کی عادت ہے۔ رمضان میں عموماً جو راتوں کی عبادت ہوتی ہے اس کا دورانیاں بڑھ جاتا ہے عشاء کے بعد دیکھ لیں تراویح ہے تراویح کے بعد تہجد ہے تہجد بھی لوگ اس کو رمضان کے اندر خصوصی طور پر کریں۔ کیونکہ اٹھنا تو ہوتا ہی ہے سہری کے لئے اٹھے ہیں وہ تہجد کا ہی وقت ہوتا ہے تو کوئی اس ٹائم ذکر و اذکار کرتا ہے کوئی رات کے وقت میں کرتا ہے تو رمضان کے اندر یہ دورانیاں بڑھ جاتا ہے تو اس لئے کوشش کریں کہ شعبان کے اندر ہی ہم اپنے آپ کو عبادات کے اندر مشغول کرنا شروع کر دیں تاکہ رمضان المبارک کے اندر ہمارے لئے عبادات کرنا آسان ہو جائے اور ویسے یہ بڑی ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہوتی ہے کہ رمضان کے اندر ہمارا یہ طریقہ بن جاتا ہے عام  دنوں میں نہیں کرتے لیکن رمضان میں بہت مختلف عبادات کرتے ہیں کیونکہ ایک ماحول بھی بن جاتا ہے تو سارے مل کے عبادات بھی کر رہے ہوتے ہیں ، نوافل بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں گھروں میں خواتین عبادات کر رہی ہوتی ہیں مرد حضرات بھی گھروں میں عبادتیں کر رہے ہوتے ہیں مساجد میں کر رہے ہوتے ہیں تو شعبان سے ہی تھوڑی تھوڑی رات کو عبادات کرنا شروع کر دینا چاہیئے تاکہ رمضان کے اندر ہمارے لئے یہ کرنا آسان ہو۔

نمبر بارہ خریداری۔ رمضان کا مہینہ عبادت کا مہینہ ہے نہ کہ شاپنگ یا خریداری کا ہم نے عموماً رمضان کے مہینے کو خریداری کا مہینہ بنا لیا ہے اور اسی میں خریداری کرتے ہیں کپڑے لے رہے ہیں اپنے لے رہے ہیں بچوں کے لئے لے رہے ہیں تو اس لئے کوشش کرنے چاہیئے رمضان کے اندر مہنگائی بھی ہو جاتی ہے وقت بھی زیادہ لگتا ہے اب کیا دونوں نقصان ہیں ایک تو پیسے کا بھی نقصان ہے وقت کا بھی نقصان ہے تو اس لئے چاہیئے کہ شعبان کے اندر ہی ہم کپڑے لے لیں اور آخر میں تو پھر درزیوں کی طرف بھی بھانگنا پڑتا ہے شعبان میں ہی کپڑے لے کے درزی کو دے دیں اب رمضان کے اندر عموماً ہوتا ہے کہ درزی کپڑے لینا بند کر دیتے ہیں اور پھر کبھی ایک طرف بھانگنا ، کبھی دوسری طرف بھانگنا اور وقت بھی ضائع ہوتا ہے پیسہ بھی زیادہ لگتا ہے تو اس لئے جو بھی شاپنگ کرنی ہے کوشش کریں رمضان سے پہلے پہلے ساری شاپنگ کر لیں تو اس لئے اس چیز سے بچنے کے لیئے بہتر ہے کہ ہم رمضان کو عبادت کا مہینہ سمجھیں نہ کہ خریداری کا تو جتنی بھی ہماری خریداری ہے وہ ہم کوشش کریں کہ رمضان سے پہلے اپنی خریداری پوری کر لیں تاکہ رمضان کے اندر ہم خالص ہو کر سال میں ایک مہینہ آتا ہے اس کے اندر ہم بھرپور طریقے سے اپنی عبادات کر سکیں اور اپنے اہل خانہ کو بھی یہ بات سمجھانی چاہیئے  کہ جو جو آپ نے لینا ہے خریداری کرنی ہے رمضان سے پہلے پہلے کر لیں تاکہ ہم خلوصِ دل کے ساتھ اللہ کی عبادت کر سکیں۔

 

 

IMPORTANT LINKS

اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں.آن لائن قرآن اکیڈمیہمارے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریںہمارے بارے میں

ابھی اس لنک پر کلک کریں اور اپنی اپائینٹیمینٹ بک کروائیں۔

BOOK APPOINTMENT

infeedad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please Disable Ad