
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام و علیکم و رحمت اللہ:
سورت البقرہ آیت نمبر 183 اس کے اندر قرآن کریم میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: کہ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے کیوں؟ تاکہ تم تقوی والے اور پرہیزگار بن جاؤ اور اسی طرح ایک حدیث کے اندر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جو آدمی روزہ رکھتے ہوے اپنے کردار و گفتار میں جھوٹ نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے / پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا ایک سلسلہ چل رہا تھا رمضان المبارک کی اہم ہدایات اور اس کے متعلق چاہ رہے تھے آدابِ رمضان اس سے پہلے پچھلے آرٹیکل کے اندر ہمارا آدابِ رمضان کا پارٹ 1 تھا آج اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے دوسرا اس کا پارٹ ہے کہ ہم نے بتایا تھا کہ آپ کے لئے بہت سارے پوائنٹ ہم نے نوٹ کیئے ہیں کہ جو آپ رمضان سے پہلے جن کو سیکھ لیں ٹھیک ہے اور کچھ چیزیں رمضان سے پہلے کر لیں اور کچھ چیزیں آپ رمضان کے اندر کر لیں تو اس سے پہلے والے آرٹیکل کے اندر ہم نے آپ کو تین چیزیں بتلائی تھی تو آگے آج بھی کچھ چیزیں آپ کے ساتھ شیئر کروں گا۔ نمبر چار سے آگے آپ کے ساتھ چیزیں چلائیں گے تاکہ ہمارے جتنے رمضان سے متعلق مسائل ہیں وہ ٹھیک ہو جائیں کیونکہ رمضان شروع ہونے والا ہے تو اس سے پہلے پہلے ہم اپنے آپ کو رمضان کے لئے تیار کر لیں۔
ابھی اس لنک پر کلک کریں اور اپنی اپائینٹیمینٹ بک کروائیں۔
BOOK APPOINTMENT
تو یہ آج پارٹ 2 کا آرٹیکل ہے نمبر چار ہے کہ ہم اپنے دل کو صاف رکھیں یعنی رمضان المبارک آنے والا ہے اس سے پہلے ہی ہم نے اپنے دل کو پاک اور صاف کرنا ہے کیوں؟ اس لئے کہ ہمارا دل جو ہے وہ جذبہ انتقام اور حسد کی آگ میں ہمیشہ جلتا رہتا ہے میں نے جیسے پہلے بتایا کہ انسان کے ساتھ حسد اور جذبہ انتقام ہر وقت انسان کے دل کے اندر جلتا رہتا ہے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے دل کو پاک صاف کریں کیسے پاک صاف کریں گے اور کیوں کریں گے اس لئے کہ حدیث شریف کے اندر آتا ہے کہ جس شخص کے دل میں کسی کے لئے نفرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہیں فرماتے تو اگر رمضان میں ہم برکت نہ لے سکے / رحمت نہ لے سکے / مغفرت نہ لے سکے / ہمیں سفارش نہ مل سکی تو پھر وہ کون سا موقع ہوگا کہ اس موقع کے اوپر ہم اتنی ساری چیزوں کو اللہ تعالیٰ سے منظور کروا سکے گی تو اس لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے دل کو پاک صاف کرنا ہے اور یہ فضولیات ہیں کہ کسی کے اندر حسد میں پڑے رہیں، کینا کریں کسی کے بارے میں بغض رکھیں اور جیسے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اصل مومن وہ ہے کہ وہ کسی شخص سے اگر بغض رکھتا ہے تو اللہ کے لئے رکھے اور اگر کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو اللہ کے لئے کرے اور آپ علیہ السلام نے بھی صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اپنے دلوں کو صاف رکھو تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کہ دل صاف کرنے کا کیا مطلب ہے تو آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا: کہ دل صاف رکھنے سے مراد یہ ہے کہ جس دل میں نہ گناہ ہو ، نہ بغاوت ہو ، نہ کینا ہو ، نہ حسد ہو۔ وہ دل صاف ہوگا۔ اگر جس دل کے اندر یہ چیزیں ہیں وہ دل صاف نہیں اور جس کا دل صاف نہیں اس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں فرماتے تو رمضان آنے سے پہلے پہلے چوتھا کام ہم نے کیا کرنا ہے اپنے دل کو صاف کرنا ہے۔ نمبر پانچ دعاؤں کا معمول رمضان المبارک مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے جا بجا ٹائم ہے جس کے اندر دعا قبول سہری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے افطاری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ تہجد کے وقت دعا قبول ہوتی ہے تو لہذا ہمیں چاہیئے کہ ہم ابھی سے اپنے آپ کو لمبی لمبی دعاؤں کے لئے تیار کریں اور ہر ایک چیز جیسے بچہ رو رو کے ایک چیز کو طلب کرتا ہے اور مانگتا ہے اسی طرح ہم نے اپنے رب سے رو رو کر ہر چیز مانگنی ہے۔
تو ہمیں چاہیئے کہ ہم وقتاً فوقتاً کچھ حدیثیں یاد کر لیں عربی کے اندر دعائیں یاد کر لیں کیونکہ ان کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے جب وہ دعائیں ہوں گی تو ان شاء اللہ ہمیں مانگتے ہوے بھی مزہ آئے گا اس ربِ کریم کو عطا کرتے ہوئے بھی تو یہ تھے آج کے چند مسائل اللہ حافظ ۔
IMPORTANT LINKS
اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں.آن لائن قرآن اکیڈمی. ہمارے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں. ہمارے بارے میں
ابھی اس لنک پر کلک کریں اور اپنی اپائینٹیمینٹ بک کروائیں۔
BOOK APPOINTMENT




