
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام و علیکم ورحمت اللہ:
حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دس گُنا سے سات سو گناہ تک بڑھایا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ روزہ میرے لئے بندے کی طرف سے ایک تحفہ ہے وَعَنَا اَجْزِي بِهِ وَعَنَا اُجْزَا بِهِ دونوں روایات کے اندر ہے اگر ہم اس کا پڑھیں اَجْزِی بِهِ اس کا مطلب ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اَجر دوں گا یعنی اس کا اَجر جو ایک قانون ہے کہ دس سے سات سو گُنا بڑھایا جاتا ہے اس سے بڑھ کر ہے جتنا میں چاہوں گا اس کا ثواب عطا کروں گا اور دوسرا ہے وَعَنَا اَجْزَا بِهِ اور اس کا بہت بڑا معنی ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی روزے کا بدلا دوں گا۔
رمضان المبارک کے آداب سے متعلق آرٹیکلز چل رہے ہیں اور اس سے پہلے ہمارے پانچ پارٹ آپ تک پہنچ چکے ہیں آج کے اس آرٹیکل کے اندر چھے واں 6 اور آخری پارٹ ہے اس کے اندر چند اور چیزیں آپ کے ساتھ ذکر کرنی ہیں تو جیسے کہ ہم نے پہلے آپ کے ساتھ ذکر کی پچھلے پانچ پارٹ کے اندر۔ ان کے اندر ہم نے آپ کے ساتھ کچھ پوائنٹس ذکر کیئے کہ جو آپ نے رمضان سے پہلے کرنے ہیں یا رمضان کے اندر جو کام کرنے ہیں ان کی ابھی سے آپ ترتیب بنا لیں۔
چلتے ہیں آج ہم پھر اپنے نئے پارٹ کی طرف آج جوپارٹ 6 ہے اس کا جو پہلا پوائنٹ ہے اور پچھلے آرٹیکلز کے حساب سے 16 پوائنٹ بنتے ہیں کیونکہ پانچ آرٹیکل کے اندر ہم نے آپ کے ساتھ تین پوائنٹ کا ذکر کیا اور اگر اس سے پہلے آپ نے آرٹیکل نہیں دیکھے ہوے / آپ نئے آئے ہیں تو آپ اس سے پہلے پانچ آداب بھی دیکھ لیں تاکہ آپ کو رمضان گزارنے کے جو اصول بتائے گئے ہیں۔ ان اصول پر عمل کرتے ہوئے ان شاء اللہ ہم رمضان گزاریں اور رمضان کے اندر جو اللہ تعالیٰ نے رحمتیں ، برکتیں ، مغفرتیں ، جہنم سے آزادی کا پروانہ لکھا ہوا ہے وہ بھی ہم سب کو نصیب ہو تو آج کا جو پوائنٹ ہے اس میں سے پہلا نمبر 16 ہے مالی حقوق سے متعلق سیکھیں۔ مالی حقوق کیا ہیں عام طور پر رمضان کے اندر مالی حقوق جیسے زکوٰة، صدقہ، فطر، عشر وغیرہ تو ہمیں چاہیے کہ ان کے متعلق ہم علم سیکھیں ان سے متعلق معلومات سیکھیں اگر ہم پر زکوٰة فرض ہے تو ہم زکوٰة کو ادا کریں عشر ہے عشر ادا کریں صدقہ، فطر ہم پر کتنا بنتا ہے وہ سیکھیں اور رمضان کے مہینے کے اندر آپ کے اوپر جو بھی قرض ہے اگر آپ اس کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس کو ادا کر دیں کیوں؟ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مالدار آدمی کا قرض کے اندر ٹال مٹول کرنا یہ ظلم ہے اس کو ظلم کے اندر تعبیب کی ہے تو اس لئے رمضان المبارک کے اندر یہ چیزیں زیادہ ہوتی ہیں۔ صدقہ و خیرات کرنا ، زکوٰة وغیرہ دینا تو اس لئے چاہیے کہ ہم رمضان سے پہلی شعبان کے اندر جو مالی حقوق ہیں اس کے متعلق سیکھ سکیں اور رمضان کے اندر ہم ان کو ادا کر سکیں اس کے بعد آگئی ہے نمبر ستراں 17 ملاقاتوں کا سلسلہ محدود کریں۔ رمضان مبارک کے اندر ملاقاتوں / دعوتوں کا سلسلہ بلکل محدود کریں تاکہ ہم اچھے طریقے سے اپنی عبادات کر سکیں تو جیسے بتایا ہے کہ ہر کام رمضان المبارک سے پہلے کر لیں اور ایسی ترتیب بنائیں کہ رمضان کے اندر صرف اپنی عبادات کے اوپر ہم زور دیں۔
نمبر اٹھاراں چھوٹی چھوٹی سورتوں کو زبانی یاد کر لیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں جن کو ایک یا دو سورتیں یاد ہوتی ہیں زیادہ سے زیادہ سورت الکوثر یاد ہوتی ہے یا سورت اخلاص اور ہم اپنی ہر نماز کے اندر اس کو زیادہ پڑھتے ہیں تو یہ بھی ٹھیک نہیں ہے ہمیں چاہیے کہ کم سے کم آخری تیسویں پارے کی جو دس سورتیں ہیں وہ ہر ایک شخص کو یاد ہونی چاہیے۔ آخری دس سورتیں سورت الفیل سے لے کے سورت الناس تک اس کو ہم اپنی ہر نماز کے اندر پڑھ سکیں دن میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر سورت پڑھیں تو پوری سورتیں دس ہو جاتی ہیں تو جب بار بار پڑھیں گے تو یہ یاد ہو جائیں گی۔ اس رمضان المبارک آپ یہ کر لیں کہ کم سے کم دس سورتیں آپ نے یاد کرنی ہیں۔
ابھی اس لنک پر کلک کریں اور اپنی اپائینٹیمینٹ بک کروائیں۔
BOOK APPOINTMENT
رمضان المبارک کے اندر نمبر انیس ہے کہ بچوں کو روزے کی عادت ڈالیں۔ دیکھیں انسان جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو پیچھے جو اس کا سب سے بڑا صدقہ جاریا ہوتا ہے اس کی نیک اولاد ہوتی ہے کیوں؟ اس لیے کہ نیک اولاد اگر نیت نہ بھی کرے تب بھی آپ کو اس کا ثواب ملے گا اگر ایک شخص فوت ہو گیا اس کی پیچھے اولاد ہے وہ نماز پڑھتی ہے اب باپ نے والدہ نے والدین نے اس کو نماز سکھائی ہوئی ہے اب وہ جب تک نماز پڑھتا رہے گا والدین کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اسی طرح روزے رکھنے کی ترتیب بنوائی ہے روزے ان کو رکھوائے جارہے ہیں اس کی عادت ڈالی جارہی ہے تاکہ وہ روزے رکھیں اور ساری زندگی روزے رکھیں گے نیت نہیں بھی کریں گے تب بھی اس کے والدین کو ثواب ہے تو سب سے بڑا والدین کے لئے ثواب ان کا صدقہ جاریا ان کی اولاد ہوتی ہے نیک اولاد انہوں نے اچھے کام ان کو سکھائے ہیں تو اس لئے رمضان کا مہینہ ہے اس کے اندر ان کو روزے کی بھی عادت ڈالیں سات سال یا سات سال کے اوپر بچے ہو جائیں نماز کی عادت ڈالیں خود نماز کے لئے جائیں اپنے بچوں کو ساتھ لے کے جائیں گھر کے اندر والدہ نمازیں پڑھیں اپنی بچیوں کو ساتھ نماز پڑھائیں تو یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم ان کو عبادات کا پابند کریں تو ان شاء اللہ کل ہمیں آخری وقت کے اندر یہ چیزیں ہمیں فائدہ دیں گی اور آخری نمبر بیس کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسجد میں وقت گزاریں عموماً ہمیں زیادہ مسجد کے اندر وقت گزارنا اچھا نہیں لگتا ہم نے بس جانا ہوتا ہے فرض نماز پڑھنی ہوتی ہے اور فوراً مسجد سے باہر تو رمضان المبارک کے اندر ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ ہم اپنا وقت مسجد کے اندر گزاریں تو اس کے لئے ابھی سے شعبان کے اندر کوشش کر لیں کہ نماز پڑھیں نماز کے بعد نفلی اعتکاف کی نیت سے ہم کچھ دیر مسجد کے اندر ٹہر جائیں قرآن پاک پڑھیں اپنی تسبیحات کریں ذکر کریں اسی طرح نفل پڑھیں اس لئے اس کا ایک سب سے بڑا فائدہ ہوگا کہ ہم جب آخری عشرے کے اندر اعتکاف کریں گے تو وہاں چل کے ہیمیں اس کا فائدہ ہوگا کیونکہ ہم نے مسجد میں پہلے ہی زیادہ وقت گزارا ہوگا تو ہمیں زیادہ مسائل وہاں پہ پیدا نہیں ہوں گے تو اس لئے چاہیے کہ ابھی شعبان کے اندر ہی ہم مسجد کے اندر تھوڑا تھوڑا وقت زیادہ دینے لگ پڑیں تاکہ رمضان المبارک کے اندر وقت دیتے ہوئے ہمیں دکت پیش نہ آئے۔
IMPORTANT LINKS
اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں.آن لائن قرآن اکیڈمی. ہمارے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں. ہمارے بارے میں




