
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام و علیکم ورحمت اللہ:
کل مجھے وٹس ایپ کے اوپر ایک میسیج آیا ایک صاحب تھے اور انہوں نے بات کی کہ مفتی صاحب میں نے جو یہ ازدواجی زندگی کے حوالے سے جو آرٹیکل شیئر کیا ہے اس حوالے سے ان صاحب نے بات کی کہ مفتی صاحب آپ تو جو شرم حیاء کی باتیں ہوتی ہیں آپ ان کو ایسے کھول کے بیان کرتے ہیں تو کیا ایسا مناسب ہے تو میں نے ان کو بہت سارے جواب دیئے لیکن ایک میں نے بات دی کہ دیکھیں لوگ یہ کام کر رہے ہیں۔ جب لوگوں کو یہ کام کرتے ہوئے شرم اور حیاء نہیں آتی تو میں بتانے کے اندر کیسے شرم کروں۔ قرآن اور حدیث کے اندر اس چیز کو بھی کھول کے بیان کیا گیا ہے اور اس سے پہلے ہم نے چھے آرٹیکل شیئر کیے اور سارے آپ پڑھ کے دیکھو قرآن اور حدیث سے مطابق ہم نے آپ کے ساتھ بات کی اور یہ باتیں بتلانا نئی جنریشن کے لیے نئے آنے والوں کے لیے ضروری ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ کفار یہود و نصارہ نے تو ہمیں پریکٹیکل ہی ہمارے سامنے رکھا ہوا ہے۔ ہماری فیملی سسٹم کو تباہ و برباد کر چکے ہیں ہماری نوجوان نسل کو خراب کر چکے ہیں اور آپ دیکھ لیں کہ لاکھوں نہیں کروڑوں میں ایسی ویب سائٹ موجود ہیں کہ جہاں پہ فحاشی حتیٰ کہ میں یہاں باتیں کرنا نہیں چاہتا جو چیزیں نیٹ کے اوپر اس وقت موجود ہیں اگر ہم یہ باتیں نہیں بتائیں گے یہ ازواجی زندگی سے متعلق جتنی بھی ہماری تحقیقات ہیں جتنی بھی ہماری چیزیں ہیں ہم نہیں بتلائیں گے تو ہماری نوجوان نسل غلط طریقے سے جب تعلق قائم کرے گی تو غلط کاریوں میں ایسی چیزوں میں ہم مبتلا ہو جائیں گے۔ دیکھیں قرآن پاک نے بھی ہمیں سب کچھ کھول کے بتلا دیا ہے۔ بیوی کے حقوق بتلا دیئے ہیں۔ ازدواجی زندگی کیسے گزارنی ہے اس کے حقوق بتلا دیئے ہیں۔ طلاق کیسے دینی ہے طلاق کے بعد کیا کرنا ہے ایک ایک چیز کو قرآن نے کھول کر بیان کر دیا اس کے بعد حدیثِ مبارکہ کے اندر ہمیں جیسے آپ علیہ السلام کی جو بیویوں کے ساتھ تعلقات تھے وہ سب ہم تک پہنچے ہوئے ہیں کیسے پہنچے ہوئے ہیں اگر وہ جو ازدواجی متحرات تھے وہ ان چیزوں کو چھپا لیتی ہیں تو یہ کیسے پہنچا۔
میں نے چھ پارٹس پہلے لگا دیئے ہیں وہ موجود ہیں ازواجی زندگی کے کہ آپ دیکھ لیں کہ ہم نے ازدواجی زندگی جتنی چیزیں ذکر کی ہیں کتنے لوگوں کو معلوم ہیں۔ کئی لوگ ہیں اب کتنے میاں بیوی ہیں جو جنابت کے جماعت کے وقت کی دعائیں ہیں ان کو نہیں یاد ہوں گی کیسے یاد ہوں گی کیونکہ ہم اس چیز کے اوپر اتنی توجہ دیتے ہی نہیں تو ہمیں اس چیز کے اوپر آنا پڑے گا اپنی زندگیوں کو قرآن و حدیث کے مطابق گُزارنا پڑے گا۔ تب ہم زندگیوں کے اندر کامیاب ہوں گے میاں بیوی کے اندر پہلے یہ چیزیں نہیں تھی۔ آج سے اگر بیس سال پیچھے چلے جائیں طلاقیں بہت کم ہوتی تھی آج اگر آپ عدالتوں میں جا کے دیکھیں خلا/ طلاق کے ڈھیر لگے ہوں گے طلاق۔ پہلے دور میں ایک طلاق ہوتی تھی تو پورے علاقے میں سوگ سا چھا جاتا تھا آج ہر ایک گھر میں طلاق ہوتی ہے کیوں ہو رہی ہے؟
کہ ہماری زندگیوں کے اندر یہ چیزیں نکل چکی ہیں۔ ہم نے جب سے یہود و نصارہ و مغرب کی تقلید کی ہمارا اپنا دین و دنیا دونوں برباد ہو چکے ہیں تو اس لیے جو چیزیں حرام ہیں جو آپ کو بتلا دی گئی ہیں آپ کے ساتھ ذکر کر دی گئی ہیں وہ ساری قرآن و حدیث میں حرام ہیں اس میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیز حلال ہے اور بعد میں اپنے تعویلات کرنا ہے اس سے بھی ہمیں بچنا چاہیئے۔
عورت کی پچھلی شرمگاہ یعنی دبر کے اندر صحبت کرنا حرام ہے اس کی میں نے تین چار آپ کو روایات بھی دی جس کے اندر فرمایا کہ ایک ملہون ہے جو اس میں صحبت کرتا ہو اور ایک صاحب نے مجھے میسج کیا وٹس ایپ کے اوپر اور ایک بڑی عجیب بات کی اور کہا کہ یہ میں نے سننا تھا کہ عورت کو اس میں تکلیف ہوتی ہے اس لیے اس چیز سے منع کیا گیا ہے تو آگے سے ان کا سوال تھا کہ اگر عورت راضی ہو تو کیا جماع کیا جا سکتا ہے کیونکہ ظاہرہ وہ تکلیف کی وجہ سے اب وہ خود راضی ہے تو وہ اس میں کر سکتی ہیں یاد رکھیں جیسے میں نے آپ کو بتلایا کہ چاہے وہ راضی ہو جائے اب یہ تو ایک ایسی بات ہوگی کہ زنا حرام ہے لیکن اگر کہا جائے کہ کوئی عورت یا مرد آپس میں راضی ہو تو کیا ہم ان کو زنا کی اجازت دے دیں گے ہرگز نہیں کیونکہ زنا حرام ہے چاہے خوشدلی سے کی جائے / چاہے زبردستی کی جائے اسی طرح عورت کے ساتھ دبر کے اندر صحبت حرام ہے چاہے راضی ہو کے کی جائے / چاہے زبردستی کی جائے ہر صورت کے اندر وہ حرام ہے یہ نہیں ہے کہ راضی ہونے کی صورت میں وہ جائز ہو جاتی ہے کیوں اس لئے کہ اس کی علت سب سے بڑی کیا علت ہے وہ گندگی ہے جیسے کہ حیض کی حالت میں عورت سے جمع نہیں کیا جاتا ہے کیوں کہ گندگی ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے اور کئی روایتیں میں نے آپ کے سامنے پیش کر دی ہیں۔ اس لئے چاہے وہ راضی ہو / چاہے ناراض ہو / چاہے زبردستی ہو ہر حال کے اندر دبر میں صحبت کرنا حرام ہے۔ چاہے عورت راضی ہو یا راضی نہ ہو۔
ابھی اس لنک پر کلک کریں اور اپنی اپائینٹیمینٹ بک کروائیں۔
BOOK APPOINTMENT
اس کے بعد دوسرا سوال ہے ہم نے آپ کو بتلایا تھا جیسے کہ جو ہمارے پارٹس جارہے ہیں اس کے پارٹس کے حوالے سے بھی اگر بیوی حالت حیض میں ہو تو اس کے ساتھ صحبت / جمع کرنا حرام ہے تو اس کے اوپر سوال تھا کہ اگر بیوی حالت حیض میں اس کے ساتھ میں صحبت نہیں کر سکتے تو اگر مرد کے اندر شہوت زیادہ ہو گناہ میں پڑنے کا خوف ہو تو پھر وہ کیا کرے دیکھیں اس کے بارے میں ایک تو اسی لئے اللہ پاک نے
مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی اگر اس کے اندر اتنی شہوت ہے زیادہ ہے کہ وہ ایک عورت سے اس کا کام نہیں ہو سکتا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حق دیا کہ دو کر لے لیکن قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ دو تین چار اس صورت میں کرو تب ان کے درمیان میں عدل کر سکو اگر عدل نہیں کر سکتے پھر ایک پہ ہی گزارا کرو دوسری شادی نہیں کر سکتے تو پھر اس کا دوسرا کیا حل ہے کہ ان دنوں کے اندر آپ روزہ رکھ لیں
پہلے تو وہ شادی کرے اگر شادی کی وہ سکت نہیں رکھتا شادی نہیں کر سکتا تو اس کو چاہے روزے رکھے کیونکہ روزہ جو ہے وہ شہوت کو توڑنے والے ہیں دوسرا یہ کریں۔
اور تیسرا اسی سوال کی نسبت سے انہوں نے کیا کہ اگر عورت حالت حیض میں ہے اس سے نہیں جمع ہو سکتا تو مشت زنی تو حرام ہے ٹھیک ہے اس کو کرنے کی اجازت نہیں ہے آدمی خود تو نہ کرے لیکن اس کی بیوی اگر اس کے لئے کر لے یعنی بیوی اپنے ہاتھ سے مشت زنی کر کے ڈسچارج کر دے تو کیا یہ جائز عمل ہے دیکھیں میں نے جیسے آپ کو بتلایا کہ عورت کے ہر عُز سے نفع اٹھانا مرد کے لئے جائز ہے ٹھیک ہے تو اس لئے جو عورت کے ہاتھ سے مشت زنی ہے وہ بھی جائز ہے ٹھیک ہے اور اس میں کوئی منہ نہیں ہے یا حرام وغیرہ نہیں ہے لیکن کوشش کی جائے کہ یہ عمل نہ کیا جائے لیکن اگر اس حد تک شدت ہے کہ گناہ میں پڑھنے کا خوف ہے تو عورت کے ہاتھ سے مشت زنی کروا سکتا ہے اس کی اجازت ہے لیکن کوشش کی جائے کہ یہ عمل نہ کیا جائے۔
IMPORTANT LINKS
اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں.آن لائن قرآن اکیڈمی. ہمارے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں. ہمارے بارے میں
ابھی اس لنک پر کلک کریں اور اپنی اپائینٹیمینٹ بک کروائیں۔
BOOK APPOINTMENT




