
خصی جانور کی قربانی کرنا کیسا ہے؟
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ ایسا جانور جو کہ خصی ہو یا پھر اسے کسی بھی طرح سے خصی کیا گیا ہو تو کیا اس کی قربانی جائز ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کیا ایسے جانور کی قربانی افضل ہے؟۔ اس لیئے آج اس آرٹیکل کے اندر اسی حوالے سے بات کریں گے۔ جہاں تک کہ یہ سوال ہے کہ خصی جانور کی قربانی جائز ہے یہ نہیں۔ خصی جانور کی قربانی آپﷺ سے ثابت ہے۔ بعض دفعہ جانور کو خصی اس لیئے بھی کیا جاتا ہے کہ اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے اور جیسا کہ ہم نے بہت سی روایات میں پڑھا اور سنا ہے کہ قربانی اچھی دینی چاہیئے یعنی اچھے جانور کی قربانی کرنی چاہیئے۔ اسی طرح اگر خصی جانور ہے تو اس کا گوشت بھی لزیز ہوگا اور اچھی طاقت والا ہوگا اس لیئے اس کی قربانی جائز ہے۔ اسی طرح حضورﷺ سے بھی خصی جانور کی قربانی کا ثبوت ہے۔ حضرت جابرؐ سے روایت ہے کہ قربانی کے دن یعنی عید قربان کے دن رسول اللہ ﷺ نے سیاہی و سفید رنگ کے سینگوں والے دو خصی مینڈو کی قربانی کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے خصی جانور کی قربانی کی ہے اس لیئے ان کی قربانی جائز ہے۔ اور ان کی قربانی افضل ہے کیوں کہ خصی جانور کا گوشت باقی جانوروں سے زیادہ عمدہ اور طاقت والا ہوتا ہے.
IMPORTANT LINKS
اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں.آن لائن قرآن اکیڈمی. ہمارے بارے میں جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں. ہمارے بارے میں




