ہمبستری کے آداب و مسائلوظائف

Humbistari Karne Ka Tarika ہمبستری کرنے کا فطری طریقہ

in article

بسم اللہ الرحمن الرحیم! السلام و علیکم! الحمداللہ ہماری سیریز چل رہی ہے جو کہ ازدواجی زندگی کو اسلامی طریقے سے گزارنے کے حوالے سے ہے. ان باتون کو جان کر ہم اپنی زندگی اسلامی آداب کے مطابق گزار سکتے ہیں. جن سے ہماری زندگی میں برکت آئے. بہت سے لوگوں کو کئی باتوں کا نہیں معلوم ہوتا اور وہ حرام کام کے مرتکب ہوتے ہیں. Humbistari Karne Ka Tarika اس لئے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ازدواجی زندگی کا اسلامی طریقہ کیا ہے.
اس سے پہلے ہم تین پارٹ آپ کے ساتھ شئیر کر چکے ہیں. اگر آپ نے نہیں دیکھے تو نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں.

ازدواجی زندگی کے اسلامی آداب سیریز

یہ آپ سارے پڑھیں تو انشا ء اللہ آپ کو بہت فائدہ ہو گا. آج کا ہمارا آرٹیکل اسی کو آگے لے کر چلے گا. پچھلے پارٹ میں ہم نے حیض کے حوالے سے آپ کو بتایا تھا ڈیتیل میں کہ حیض کے دوران آپ جماع نہیں کر سکتے. آج کے پارٹ میں ہم یہ بتائیں گے کہ حیض کے بعد ہم کب اور کیسے جماع یا ہم بستری کر سکتے ہیں، اور جو مین بات ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ جماع کا فطری طریقہ کون سا ہے. اور کون سا طریقہ حمل کے لئے بہتر ہے.

حیض ختم ہونے کے بعد ہمبستری جماع کب کریں؟ 

حیض جب ختم ہو جائے، خون آنا بند ہو جائے تو آپ شرم گاہ کو دھو کر گسل کرنے کے بعد ہمبستری یا جماع کر سکتے ہیں . لیکن اس کے اندر ایک قانون ہے وہ آپ سمجھ لیں. شریعت کے مطابق عورت کم ازکم تین دن حیض ہو سکتا ہے. اس سے کم اگر دن اگر خون آتا ہے تو وہ کوئی اور مسئلہ ہے. اور یہ زیادہ سے زیادہ دس دن تک رہے گا. اگر اس سے زیادہ ہے تو وہ بھی کوئی اور مسئلہ ہے.

10 سے کم دنون کا حیض ہوتا ہو تو کیا کریں؟

اگر کسی عورت کی عادت 5 دن ہے، 7 دن ہے، جیسے مختلف عرتوں کی مختلف عادات ہوتی ہیں. اگر دس دن سے پہلے پہلے خون بند ہو جاتا ہے تو اس صورت میں عورت سے اس وقت تک ہمبستری جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ غسل کر لے. یا اس پر ایک فرض نماز کا وقت آکر گزر جائے، اتنا وقت گزرنے کے بعد اس سے ہم بستری جائز ہو سکتی ہے. یعنی ایک فرض نماز کا وقت آکر گزر جائے تو اب غسل کے بغیر ہم بستری جائز ہو سکتی ہے.

10 دن کا حیض ہوتا ہو تو کیا کریں؟

لیکن اگر اس کی عادت 10 دن ہے یا اس کی عادت 7 دن 8 دن تھی. مگر اس مرتبہ اسے 10 دن خون آیا ہے تو جونہی 10 دن پورے ہوں گے اس سےجماع جائز ہے یعنی غسل ضروری نہیں. اس کے اوپر ایک نماز کا وقت گزرنا ضروری نہیں ہے. لیکن طبی لحاط سے چاہئیے کہ عورت غسل کر لے کیونکہ صاف پاک ہو کر کرنے میں را حت ہے.

Humbistari Karne Ka Tarika جماع کرنے کا فطری طریقہ کون سا ہے؟

جماع کرنے کے کون سے طریقے ہیں ؟ کس کس طرح جماع جائز ہے؟ اس کی مکمل تفصیل اگلے پارٹ میں شیئر کریں گے. اس آرٹیکل میں ہم آپ کو یہ بتایئں گے کہ جماع کرنے کا فطری طریقہ کون سا ہے. جو فطری طریقہ ہے جماع کرنے کا وہ یہ ہے کہ اس دوران عورت نیچے ہو اور مرد اس کے اوپرہو. قرآن مجید بھی اسی طریقے کوذکر کرتا ہے .

جیسے کہ سورۃ اعراف آیت نمبر 185 میں آتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہےکہ:

جب اس کو مرد نے ڈھانپ لیا تو اس کو ایک ہلکہ سا حمل ٹھہر گیا.

تو اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مرد اوپر عورت نیچے ہو. کیونکہ مرد عورت کو ایسے ہی ڈھانپ سکتا ہے کہ عورت سیدھی لیٹی ہو اور مر اس کے اوپر الٹا لیٹا ہو. جماع کے اور بھی بہت طریقے ہیں لیکن فطری طریقہ یہی ہے.

Humbistari Karne Ka Tarika جلدی حمل کے لئے کیسے جماع کریں؟

حمل کے لئے بھی سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ عورت نیچے ہو سیدھی اور مراوپر ہو الٹا. یہ طب سائنس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ حمل ہونے کے چانسز اسی طریقہ میں ہیں. باقی طریقوں سے حمل کے چانسز کم ہوتے ہیں.

جماع کے باقی طریقے ہم انشاء اللہ آپ سے اگلے پارٹ میں شئیر کریں گے. امید کرتے ہیں یہ پڑھ کر آپ کی معلومات مین اضافہ ہوا ہوگا. اس پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں.

Important Links

اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں. آن لائن قرآن اکیڈمی.

infeedad

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please Disable Ad