
بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام و علیکم! ہمارا یہ آرٹیکل Husband Wife Humbistari In Islam ازدواجی زندگی ہمبستری کے آداب و مسائل کی سیریز کا تیسرا پارٹ ہے. جس میں ہم حیض کے دوران ہمبستری کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بتائیں گے. ہم نے اس سے پہلے دو پارٹس آپ کے ساتھ شئیر کئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ ن ے وہ پڑھے ہوں ھے اور آپ کو بہت سی معلومات حاصل ہوئی ہوں گی. اگر آپ نے نہیں پڑھے تو نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں.
https://erohanibook.com/category/wazaif/ہمبستری-کے-آداب-و-مسائل/
پچھلے پارٹ میں ہماری ڈسکشن جو چل رہی تھی وہ ہمبستری کے آداب کے بارے میں تھی. کہ شادی کے بعد ہمبستری کرنے کا اسلامی طریقہ کیا ہے. اور یہ بھی کہ سواگ رات کو کیسے آپ نے یہ عمل کرنا ہے.
جیسا کہ اس پارٹ میں حیض سے متعلق بات ہو گی تو سواگ رات یعنی شادی کی پہلی رات کو اب مرد زیادہ ترجزبات میں ہوتے ہیں اور یہ طریقہ نہیں ہے کے آپ جاتے ساتھ ہی بیوی سے ہمبستری کرنےلگیں یا خواہش کرنے لگیں.ہو سکتا ہے کہ آپ کی بیوی حالت حیض (Periods) میں ہو. تو یہ عمل آپ کی بیوی کے لئے باعث تکلیف ہو سکتا ہے.
حضور پاک صلہ اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:
کوئی شخص مثل چوپائے کے اپنی بیوی پر نہ جا پڑے بلکہ چاہیے کہ پہلے بوس وکنار اور باتوں سے آہستہ آہستہ آمادہ کرے.
اس لئے اس ٹائم آپ کو کو چاہئے کہ آپ آہستہ آہستہ بات کریں اور بوس و کنات کرے اور بیوی کو رضا مند کریں. اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد قدرتی طور پر ہر وقت تیار ہی رہتا ہے. لیکن عورت کے معاملے میں یہ بات نہیں ہے. عورت کے ساتھ پہلے بوس و کنات اور بات چیت ضروری ہے تاکہ وہ اس عمل کے لئے مکمل تیار ہو سکے. اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ اپنی بیویوں پر چوپایوں کی طرح نہ آو.اور اسے پہلے تیار کر لو.
دوسری بات یہ کہ اس رات وہ حیض سے ہو کتی ہے. تو اس صورت میں آپ ہمبستری نہیں کر سکتے، کیونکہ اسلام میں حالت حیض میں عورت سے ہمبستری کرنے کو حرام قرار دیا ہے.
قرآن پاک میں سورۃ بقرہ میں ارشاد ہے.
حالتِ حیض کے اندر عورت سے دور رہو.
Husband Wife Humbistari حالت حیض میں ہمبستری جمع کے نقصانات:
حالت حیض کے اندر ہمبستری کے بہت سارے نقصانات ہیں.
اسلام کے حوالے سے نقصانات:
اگر آپ اسلامی حوالے سے دیکھیں تو حرام ہے. کچھ فقہا کے مطابق اگر کوئی شخص اسے حلال سمجھ کر کرتا ہے تو یہ حرام ہے. اور اگر نہ جانتے ہوئے یہ عمل ہوا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ استغفارکرے اور بعض کا کہنا ہے کہ صدقہ بھی کرے استغفار بھی کرے.
طبی کے حوالے سے نقصانات:
اور اگر طبی حوالے سے دیکھیں تو یہ ہے کہ حالت حیض میں ہمبوتری کرنے سے بہت سارے مرض لاہق ہو سکتے ہیں. جیسے کہ AIDs ہونے کی ایک نہت بڑی وجہ ہے یہ.اسکے علاوہ جیسے آتشک ،سفلاس، سوزاک ہےوغیرہ. ان بیماریوں کی یہ بہت بڑی وجہ ہے. اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اولاد مجزوب پیدا ہوتی ہے. تو اس لئے اس سے بچنہ چاہئے.
حالت حیض میں بیوی جمع نہ کریں تو بوس و کنار جائز ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو اہل کتاب تھے اور عیسائی اور یہودی. یہودی حالت حیض میں بیوی سے مکمل دوری اختیار کر لیتے تھے.اور علیدہ کر دیتے تھے . اور عیسائی اس حالت میں ہمبستری جمع کو جائز سمجھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں نے پوچھا کہ ہم کیا کریں اس حالت میں. تب یہ آیت نازل ہوئی تھی.”حالت حیض کے اندر عورت سے دور رہو”
ان سب باتوں کے بعد سب کو چاہئے کہ وہ اس کام سے بچیں. ان باتوں پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترگیب دیں تاکہ حرام چیز سے بچا جا سکے.
Important Links
اگر آ پ استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں استخارہ. ہمارا یوٹیوب چینل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں یوٹیوب. آن لائن قرآن اکیڈمی کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں کلک کریں. آن لائن قرآن اکیڈمی.





